کمی نہیں ہے زمانے میں حسینوں کی
مجبور ہیں ہم دل نے چُنا ہے تم کو




آپ کے کِردار سے مجھے کیا غرض
مجھ سے سوال میری نیت کا ہوگا




ہمیں پتہ ہے کہیں اور کے مسافر ہو
ہمارا شہر تو بس راستے میں پڑتا ہے




کہانی نہیں ، زندگی چاہیئے
تجھ سا نہیں ، تُو چاہیئے




اِنکار کی جو لذت ھے وہ اِقرار میں کہاں
بڑھتا ھے شوق غالبؔ اُن کی نہیں نہیں سے




اتنے گھنے بادل کے پیچھے
کتنا تنہا ہوگا چاند




میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی
وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا




مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ




رشتوں میں اداکاری نہیں بلکہ
وفاداری والے معاملے رکھیں




جو دعا سے نکل گیا ہو
اسے بدوعا میں کیا رکھنا

Life Sad Poetry In Urdu





وہ بہت مختصر رہا مجھ میں
آنکھ کھلنے سے، بند ہونے تک




اور مجھ سے نہ الجھئے صاحب
ہاتھ جوڑے ہیں، ہار مانی ہے




محبت کا تو پتہ نہیں مگر
انسان نفرت دل سے کرتا ہے




محبت مکمل ملنے کا نہیں
محبت مکمل ہونے کا نام ہے




پھر کہی بھی پناہ نہیں ملتی
محبت جب بے پناہ ہوجائے




یہ علاج بتایا ہے طبیب نے اسے بھلانے کا
کہ رفتہ رفتہ تم اپنی یاداشت کھو بیٹھو




کوئی تو بات ہے دل میں اور اتنی گہری ہے
تیری ہنسی تیری آنکھوں تک نہیں پہنچتی




ہر موڑ پہ مل جاتے ہیں ہمدرد ہزراوں،
دانش تیری بستی میں اداکار بہت ہیں۔




صبر کرنے پہ آؤں تو مڑ کر بھی نہ دیکھوں
تم نے ابھی دیکھا ہی نہیں میرا پتھر ہونا۔۔!




تھوڑی سی خودداری بھی لازمی تھی،
اس نے ہاتھ چھڑایا میں نے چھوڑ دیا۔




یاد رہے گا یہ دور حیات ہم کو عمر بھر،
کیا خوب ترسے زندگی میں ایک شخص کے لیے۔




اب پھر بچھڑنے کی بات مت کرنا
میں ڈر گئی تھی میں مر بھی سکتی تھی




سب کے مطابق ہوجاٶں؟؟
مطلب میں بھی منافق ہوجاٶں

Very sad Poetry In Urdu Images




وقت پلٹے گا میری قسمت کی کایا
تمیں ہم بتائیں گے مکافات عمل کے معنی




اپنی بے قدری کی حد کی تھی
ہم میسر تھے ایسے ویسوں کو




جانے والے کی سزا
آنے والے کو مت دیں





تیری آہوں پہ مسیحا کو ہنسی آتی ہے
اس سے بھی زیادہ تماشے کی تمنا ہے تجھے




بے قدری تو ہونی تھی
ہم اس کو میسر جو تھے




کوئی کتنا ہی خوش مزاج کیوں نہ ہو
رلا دیتی ہے کسی کی کمی کبھی کبھی




اس بار روٹھیں گے نہیں
اس بار بھلا دیں گے تجھے




مرتا تھا جو ہر دم تجھ پہ
صد افسوس اب وہ دل نہ رہا




غیروں کو بھی کرتے ہو محبت سے اشارے
کیا اتنی کافی نہیں- توہین ہماری




جیسے دنیا میں کوئی تھا ہی نہیں
ہائے راتیں تیری جدائی کی





جب تم کو لگے تم میرے ہو
پھر دیر نہ کرنا آنے میں




اب سمجھ لیتے ہیں میٹھے لفظ کی کڑواہٹ ی
 .ہو گیا ہے زندگی کا تجربہ تھوڑا بہت




پھانسی کا انتظار تھا اس کو اس قدر
 پودے کو پال رہا تھا اولاد کی طرح




ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا 




ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں 




پھر یوں ہوا کے رفتہ رفتہ ہوگئی بے معنی
میری بات بھی.. میری ذات بھی




ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو




تُجھ پہ کُھل جاتی میری روح کی تنہائی بھی
میری آنکھوں میں کبھی جھانک کے دیکھا ہوتا 




اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی




غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں 


Sad Poetry in Urdu 2 Lines





رستہ میں مل گیا تو شریک سفر نہ جان
جو چھاؤں مہرباں ہو اسے اپنا گھر نہ جان




نہ جانے کیسا رشتہ ہے اس دل کا تجھ سے
دھڑکنا بھول سکتا ہے، پر تیرا نام نہیں