ہر عید پر روٹھ جاتے ہیں وہ ہم سے
اب بتاؤ ہم عید منائے یا ان کو




زندگی تیرے تعاقب میں ھم
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ھیں




آنکھ کو بیدار کر دے وعدہِ دیدار سے
زندہ کر دے دِل کو سوز جوہرِ گفتار سے




دِل میں خُدا کا ہونا لازم ہے اقبال
سجدوں میں پڑے رہنے سے جنّت نہیں مِلتی





دِل میں خُدا کا ہونا لازم ہے اقبال
سجدوں میں پڑے رہنے سے جنّت نہیں مِلتی





کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نِگاہِ مردِمومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں





اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہی رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد






دل تجھ پہ فدا ہوا
کمبخت شوق سے تباہ ہوا





گُزر گئے ہیں جو خوشبوئے رائیگاں کی طرح 
وہ چند روز، مِری زندگی کا حاصل تھے





وقت سے پوچھ رھا ھے کوئی
زخم کیا واقعی بھر جاتے ھیں





کتنی اچھی لگتی ہےکسی سے محبت کی ابتدا"
"درد تو تب ہوتا ہے جب کوئی اپنا بنا کر چھوڑ دے"